عیدِ زہراؑ (فرحتِ زہراؑ) کی شرعی و تاریخی حیثیت — ایک تحقیقی جائزہ

www.rachughtai.com


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رشید احمد چغتائی

چند دہائیوں سے بعض شیعہ حلقوں میں 9 ربیع الاول کو “عید الزہراءؑ”، “فرحتِ زہراؑ”، “عیدِ عظیم” یا بعض مقامات پر “عیدِ رفع القلم” کے نام سے منانے کا رواج عام ہوا ہے۔ اس دن کو حضرت فاطمہ زہراؑ کی خوشی، امام مہدیؑ کی امامت کے آغاز یا بعض تاریخی شخصیات کی وفات سے جوڑ کر خصوصی جشن، مبارک باد، مخصوص مجالس اور بعض غیر مناسب رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔
تاہم جب اس روایت کو قرآن کریم، احادیثِ اہل بیتؑ، قدیم شیعہ مصادر، علمِ رجال، اصولِ فقہ اور معتبر تاریخی روایات کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 9 ربیع الاول کو “عیدِ زہراؑ” کے عنوان سے شرعی عید قرار دینے پر نہ کوئی قطعی قرآنی دلیل موجود ہے، نہ صحیح حدیث، نہ ائمہ اہل بیتؑ کا عمل، نہ متقدمین فقہاء کا اجماع۔

اس موضوع پر تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ جذبات کے بجائے دلیل، تاریخ اور فقہ کو معیار بنایا جائے۔

عید کا تعین صرف شارع کا حق ہے
اسلام میں عید محض خوشی کا نام نہیں بلکہ ایک شرعی شعار ہے۔ کسی دن کو “عید” قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے اختیار میں ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«﴿اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي﴾
(المائدہ: 3)»

یعنی دین مکمل کر دیا گیا۔
اسی طرح فرمایا:

«﴿وما آتاكم الرسول فخذوه﴾
(الحشر: 7)»

ائمہ اہل بیتؑ سے بھی متعدد روایات منقول ہیں کہ عبادات میں اصل توقیف ہے، یعنی جس عمل کی مشروعیت پر دلیل نہ ہو اسے دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ شیخ طوسی، علامہ حلی، محقق حلی اور بعد کے اصولیین نے بھی یہی اصول بیان کیا ہے کہ:

«الأصل عدم المشروعية حتى يقوم الدليل.»

لہٰذا اگر کسی دن کو “عید” کہا جائے تو اس کے لیے واضح شرعی دلیل ناگزیر ہے۔

کیا قدیم شیعہ مصادر میں “عید الزہراء” موجود ہے؟
یہ اس پورے مسئلے کا سب سے اہم سوال ہے۔

اگر 9 ربیع الاول واقعی اہل بیتؑ کی مقرر کردہ عید ہوتی تو اس کا ذکر سب سے پہلے درج ذیل مصادر میں ہونا چاہیے تھا:

– الکافی (شیخ کلینی)

– من لا يحضره الفقيه (شیخ صدوق)

– تہذیب الاحکام

– الاستبصار

– مصباح المتهجد

– المقنعہ

– النہایہ

– نہج البلاغہ

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی معتبر اور ابتدائی شیعہ ماخذ میں 9 ربیع الاول کو “عید الزہراء” قرار نہیں دیا گیا۔
یہ خاموشی خود اس بات کی اہم دلیل ہے کہ یہ عنوان ابتدائی شیعہ روایت کا حصہ نہیں تھا۔

“مسار الشیعہ” کی روایت

اکثر لوگ اس عید کی نسبت شیخ مفیدؒ کی کتاب مسار الشيعة کی طرف کرتے ہیں۔

لیکن محققین نے اس نسبت پر متعدد اشکالات اٹھائے ہیں۔

اولاً، مختلف نسخوں میں عبارت کا اختلاف پایا جاتا ہے۔
ثانیاً، شیخ مفید نے بھی کہیں اسے مسلمانوں کی مستقل شرعی عید قرار نہیں دیا۔

ثالثاً، اگر بالفرض کوئی تاریخی فضیلت نقل بھی ہو تو وہ شرعی عید ثابت نہیں کرتی۔
اسی لیے بہت سے معاصر شیعہ محققین نے اس استدلال کو ناکافی قرار دیا ہے۔

امام مہدیؑ کی امامت اور 9 ربیع الاول

بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ امام حسن عسکریؑ کی شہادت 8 ربیع الاول کو ہوئی، لہٰذا اگلے دن امام مہدیؑ کی امامت شروع ہوئی، اسی لیے خوشی منائی جاتی ہے۔

لیکن شیعہ عقیدہ کے مطابق:
«الأرض لا تخلو من حجة»
یعنی زمین ایک لمحہ بھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی۔

اس بنا پر امام مہدیؑ کی امامت کسی اگلے دن شروع نہیں ہوئی بلکہ امام حسن عسکریؑ کی وفات کے فوراً بعد ثابت ہوگئی۔
لہٰذا صرف 9 ربیع الاول کی تخصیص پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں۔

“رفع القلم” کی روایت
اس دن کے بارے میں ایک روایت مشہور کی جاتی ہے کہ تین دن تک گناہ نہیں لکھے جاتے۔

علمائے رجال اور محدثین نے اس روایت کی سند پر شدید اعتراضات کیے ہیں۔
یہ روایت نہ کتب اربعہ میں معتبر سند سے موجود ہے اور نہ اس پر متقدم فقہاء نے کوئی شرعی حکم قائم کیا۔

اسی لیے اسے شرعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

اہل بیتؑ کا اخلاقی منہج

قرآن کریم اہل ایمان کو عدل، تقویٰ اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔
امام جعفر صادقؑ نے اپنے شیعوں کو تاکید فرمائی کہ وہ اپنے کردار سے اہل بیتؑ کی زینت بنیں، باعثِ ننگ نہ بنیں۔

لہٰذا اگر کسی رسم کے نتیجے میں سبّ و شتم، اشتعال انگیزی یا امت میں نفرت پیدا ہو تو اسے اہل بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق نہیں کہا جا سکتا۔

معاصر مراجع کا طرزِ عمل
نجف اور قم کے اکثر جلیل القدر مراجع نے اس دن کو اسلامی عید کے طور پر متعارف نہیں کرایا۔
ان کے رسائلِ عملیہ میں نہ اسے عید شمار کیا گیا ہے اور نہ اس کے لیے مخصوص عبادات یا احکام بیان کیے گئے ہیں۔

یہ بھی اس امر کا واضح قرینہ ہے کہ اس کی حیثیت ایک ثابت شدہ شرعی عید کی نہیں۔

تمام قرآنی، حدیثی، تاریخی اور فقہی شواہد کا مجموعی جائزہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ 9 ربیع الاول کو “عید الزہراءؑ” یا “فرحتِ زہراؑ” کے عنوان سے ایک مستقل شرعی عید قرار دینا مضبوط اور معتبر دلائل سے ثابت نہیں۔
اگر کوئی شخص اس دن اللہ کا شکر ادا کرے، صدقہ دے، صلہ رحمی کرے یا امام زمانہؑ کی امامت کو یاد کرے تو یہ عمومی نیکی کے اعمال ہیں، لیکن انہیں ایک نئی شرعی عید کا عنوان دینا درست نہیں۔
دین میں اضافہ یا نئے شعائر کی ایجاد ہمیشہ دلیل کی محتاج ہوتی ہے، اور اس موضوع میں ایسی قطعی دلیل موجود نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن، سنتِ رسول ﷺ اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کی صحیح پیروی، تحقیق، اعتدال اور امت کی وحدت کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
رشید احمد چغتائی
،www.rachughtai.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top