جادو، نظرِ بد، وسوسوں اور روحانی پریشانیوں سے حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں جامع رہنمائی ،۔ رشید احمد چغتائی

جادو، نظرِ بد، وسوسوں اور روحانی پریشانیوں سے حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں جامع رہنمائی

رشید احمد چغتائی

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر قسم کی جسمانی، روحانی، نفسیاتی اور معاشرتی مشکلات سے نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ جادو، نظرِ بد، حسد، جنات کے اثرات یا روحانی پریشانیوں کا شکار ہے تو سب سے پہلے اسے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ (توکل) کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ﴾
(سورۃ الانعام: 17)

“اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔”

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
(سورۃ الطلاق: 3)

“اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
لہٰذا ہر مؤمن کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور رسول اللہ ﷺ، اہلِ بیت اطہارؑ اور صالحین کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں حاجات پیش کرے۔ دعا میں استقامت اور مداومت بہت ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلسل اور اخلاص کے ساتھ مانگنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

جادوگروں اور عاملوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات

آج کل بہت سے لوگ جادو ختم کرنے، بندش کھولنے یا قسمت بدلنے کے نام پر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد شرعی تعلیمات سے دور اور مالی مفاد کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ”
(مسند احمد، سنن ابوداؤد)

“جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس کی باتوں کو سچا سمجھے، اس نے اس تعلیم کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔”

لہٰذا ایسے لوگوں کے پاس جانے کے بجائے قرآن، دعا، ذکر، صدقہ اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کو اختیار کرنا چاہیے۔

جادو اور نظرِ بد سے حفاظت کے لیے اہم اعمال

1۔ صدقہ دینا

سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد صدقہ دینا مستحب اور باعثِ برکت ہے، خواہ تھوڑی سی رقم ہی کیوں نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الصَّدَقَةُ تَدْفَعُ الْبَلَاءَ”
(طبرانی)

“صدقہ مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔”

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

“الصدقة تدفع سبعين نوعاً من البلاء.”
(الکافی)

“صدقہ ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے۔”
2۔ آیت الکرسی اور قرآنی سورتوں کی تلاوت

روزانہ درج ذیل سورتوں اور آیات کی تلاوت کریں:

– آیت الکرسی

– سورۃ الاخلاص (6 مرتبہ)

– سورۃ الکافرون

– سورۃ الفلق

– سورۃ الناس

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة إلا الموت.”
(نسائی)

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:

“آية الكرسي حرز من الشيطان.”
(بحار الأنوار)

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو “معوذتین” کہا جاتا ہے اور نبی کریم ﷺ ان کے ذریعے دم فرمایا کرتے تھے۔
3۔ کثرتِ درود اور اذکار

محمد و آل محمد علیہم السلام پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
(سورۃ الاحزاب: 56)

ساتھ ہی درج ذیل اذکار کی کثرت کریں:

– لا إله إلا الله

– لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم

– حسبي الله ونعم الوكيل

– أستغفر الله ربي وأتوب إليه

امام علیؑ فرماتے ہیں:

“ذكر الله دواء، وذكر الناس داء.”
(نہج البلاغہ)

“اللہ کا ذکر شفا ہے اور لوگوں کی باتوں میں مشغول ہونا بیماری ہے۔”

4۔ نبی اکرم ﷺ کی تعلیم کردہ دعا

روزانہ صبح و شام یہ دعا پڑھیں:

“بسم الله الرحمن الرحيم، لا إله إلا الله، عليه توكلت وهو رب العرش العظيم، ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن، أشهد أن الله على كل شيء قدير، وأن الله قد أحاط بكل شيء علماً، اللهمH إني أعوذ بك من شر نفسي ومن شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها، إن ربي على صراط مستقيم.”

یہ دعا اللہ تعالیٰ کی قدرت، علم اور حفاظت کا اعلان ہے۔
5۔ حفاظت کی عظیم دعا

“أعوذ بنور وجه الله وكلماته التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، من شر ما ذرأ في الأرض وما يخرج منها، ومن شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر طوارق الليل والنهار إلا طارقاً يطرق بخير يا رحمن.”

یہ دعا شیطانی وسوسوں، فتنوں اور ناگہانی آفات سے حفاظت کے لیے پڑھی جاتی ہے۔
6۔ حرزِ ابو دجانہ

علمائے اہل سنت اور شیعہ دونوں نے بعض حفاظتی دعاؤں اور احراز کا ذکر کیا ہے۔ ان میں مشہور “حرز ابو دجانہ” بھی شامل ہے جسے علامہ کفعمی نے المصباح میں نقل کیا ہے۔

اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا اور روحانی حفاظت حاصل کرنا ہے۔

7۔ سورۃ القلم کی آیت

﴿وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ﴾
(القلم: 51)

اس آیت کو نظرِ بد سے حفاظت کے لیے علماء نے مفید قرار دیا ہے۔

اس کے بعد تین مرتبہ پڑھیں:

“ما شاء الله لا قوة إلا بالله العلي العظيم”

پھر یہ دعا پڑھیں:

“اللهم ذا السلطان العظيم والمن القديم والوجه الكريم، ذا الكلمات التامات والدعوات المستجابات، عاف فلان من أنفس الجن وأعين الإنس.”
8۔ حضرت موسیٰؑ اور جادوگروں کا واقعہ

قرآن مجید میں جادو کے اثر کو باطل کرنے کے لیے حضرت موسیٰؑ کے واقعہ کا ذکر موجود ہے:

﴿إِنَّ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ﴾
(یونس: 81)
﴿فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
(الاعراف: 118)
یہ آیات جادو اور باطل قوتوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یاد دہانی ہیں۔
9۔ حضرت علیؑ سے منقول دعا
محدث قمیؒ نے مفاتیح الجنان میں حضرت علیؑ سے منقول ایک دعا نقل کی ہے:

“بسم الله وبالله، بسم الله وما شاء الله، بسم الله ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال موسى: ما جئتم به السحر، إن الله سيبطله، إن الله لا يصلح عمل المفسدين، فوقع الحق وبطل ما كانوا يعملون، فغلبوا هناك وانقلبوا صاغرين.”

یہ دعا اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین اور باطل قوتوں کے خاتمے کا اعلان ہے۔

اہل سنت و اہل تشیع کے مشترکہ عقائد

اہل سنت اور اہل تشیع دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ:

1. حقیقی مؤثر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

2. جادو کا اثر اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

3. قرآن کریم سب سے بڑی شفا ہے۔

4. دعا، صدقہ، ذکر اور تلاوتِ قرآن حفاظت کا ذریعہ ہیں۔

5. رسول اللہ ﷺ اور اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو روحانی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾
(سورۃ الاسراء: 82)

“اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مؤمنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔”

ایک مؤمن کو خوف، وہم اور مایوسی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت، دعا، ذکر، صدقہ، استغفار، نماز اور قرآن سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ اگر کوئی جسمانی یا نفسیاتی بیماری ہو تو روحانی اعمال کے ساتھ مستند طبی اور نفسیاتی علاج بھی اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ اسلام علاج اور دعا دونوں کی تعلیم دیتا ہے۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:

“التوكل على الله نجاة من كل سوء وحرز من كل عدو.”
(غرر الحکم)

“اللہ پر بھروسہ ہر برائی سے نجات اور ہر دشمن کے مقابلے میں مضبوط قلعہ ہے۔”

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے شر، حسد، نظرِ بد، وسوسوں، جادو اور ظاہری و باطنی آفات سے محفوظ فرمائے، اور قرآن و اہل بیتؑ و سنتِ رسول ﷺ کے نور سے ہمارے دلوں کو منور فرمائے۔ آمین۔
 
روحانی حفاظت، جادو کے ابطال اور مؤمن کی اصل طاقت: حضرت موسیٰؑ، قرآن، سنت اور اہل بیتؑ کی روشنی میں
جادو، نظرِ بد اور حسد کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر
اسلام جادو، نظرِ بد اور حسد کے وجود کا انکار نہیں کرتا، لیکن اس کے ساتھ یہ بنیادی عقیدہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اجازت کے بغیر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾
(البقرہ: 102)

“وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔”

یہ آیت مؤمن کے دل میں یقین پیدا کرتی ہے کہ جادوگر، حاسد، دشمن یا شیطانی قوتیں بذاتِ خود کوئی مستقل طاقت نہیں رکھتیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«العين حق»
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
“نظرِ بد ایک حقیقت ہے۔”

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
«العين حق، ولو كان شيء يسبق القدر لسبقته العين»
(الکافی)
“نظرِ بد حق ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھ سکتی تو نظرِ بد بڑھ جاتی۔”
لیکن اس کے باوجود تقدیر اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
حضرت موسیٰؑ اور جادو کے خلاف قرآنی جدوجہد

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ اس بات کا عظیم ثبوت ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور باطل بالآخر شکست کھاتا ہے۔

فرعون نے اپنے دور کے بہترین جادوگروں کو جمع کیا تاکہ حضرت موسیٰؑ کے معجزے کو جادو ثابت کیا جا سکے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ﴾
(الاعراف: 116)

“انہوں نے لوگوں کی آنکھوں کو متاثر کیا اور انہیں خوفزدہ کر دیا۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جادو کا بڑا حصہ نفسیاتی خوف، دھوکے اور انسانی کمزوریوں سے متعلق ہوتا ہے۔

اسی لیے اسلام میں وہم، خوف اور مایوسی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰؑ کو تسلی

جب حضرت موسیٰؑ نے جادوگروں کا منظر دیکھا تو انسانی فطرت کے مطابق دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔

﴿فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَىٰ﴾
(طٰہٰ: 67)

مگر فوراً اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَى﴾
(طٰہٰ: 68)

“خوف نہ کرو، یقیناً تم ہی غالب رہو گے۔”

یہ آیت ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو مشکلات، بیماری، حسد، جادو یا کسی بھی روحانی پریشانی کا سامنا کر رہا ہو۔
جادو کے خاتمے کے لیے قرآنی اعلان

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ﴾
(یونس: 81)

“جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے، اللہ اسے باطل کر دے گا۔”

پھر فرمایا:

﴿وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ﴾
(یونس: 82)

“اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو ثابت کر دیتا ہے اگرچہ مجرم اسے ناپسند کریں۔”

یہ آیات جادو، باطل طاقتوں اور شیطانی اثرات کے مقابلے میں مؤمن کے لیے عظیم روحانی ہتھیار ہیں۔
حضرت موسیٰؑ کی عظیم دعائیں

دعا برائے آسانی
﴿رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۝ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۝ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ۝ يَفْقَهُوا قَوْلِي﴾
(طٰہٰ: 25-28)

یہ دعا ذہنی دباؤ، خوف، مشکلات اور پیچیدہ معاملات کے حل کے لیے بہترین دعا ہے۔
دعا برائے حفاظت

﴿إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾
(غافر: 27)
یہ دعا ظالموں، دشمنوں اور شر پسند لوگوں کے مقابلے میں مؤمن کو مضبوط بناتی ہے۔

توکل کی بلند ترین مثال

جب سمندر سامنے اور فرعون کا لشکر پیچھے تھا تو بنی اسرائیل گھبرا گئے۔

انہوں نے کہا:

﴿إِنَّا لَمُدْرَكُونَ﴾
لیکن حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:
﴿كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
(الشعراء: 62)
“ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ میری رہنمائی کرے گا۔”

یہ جملہ ہر مؤمن کے لیے یقین، امید اور توکل کا ابدی پیغام ہے۔

اہل بیتؑ کی تعلیمات

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

«التوكل على الله نجاة من كل سوء وحرز من كل عدو»
(غرر الحکم)

“اللہ پر بھروسہ ہر برائی سے نجات اور ہر دشمن سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔”

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

«من فوض أمره إلى الله كفاه الله ما أهمه»
(الکافی)

“جو اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اللہ اس کے غموں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔”

امام زین العابدینؑ دعا فرماتے ہیں:

«اللهم إني أعوذ بك من الحسد ومن شر الحاسدين»
(صحیفہ سجادیہ)
اہل سنت و اہل تشیع کا متفقہ عقیدہ

اہل سنت اور اہل تشیع دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ:

– حقیقی شفا دینے والا اللہ ہے۔

– جادو مستقل طاقت نہیں رکھتا۔

– قرآن سب سے بڑی شفا ہے۔

– دعا، صدقہ، استغفار اور درود حفاظت کے ذرائع ہیں۔

– نبی اکرم ﷺ اور اہل بیتؑ کی تعلیمات روحانی تحفظ کا مضبوط ذریعہ ہیں۔

اللهم إنا نسألك بنور وجهك الكريم، وبحق محمد وآل محمد الطاهرين، وبحق أنبيائك ورسلك وملائكتك المقربين، أن تحفظنا من شر السحر والسحرة، ومن شر الحسد والحاسدين، ومن شر شياطين الإنس والجن، ومن كل بلاء ظاهر وباطن. اللهم اجعل القرآن العظيم ربيع قلوبنا وشفاء صدورنا ونور أبصارنا وذهاب همومنا وغمومنا. إنك على كل شيء قدير. آمين يا رب العالمين.

مؤمن کی سب سے بڑی طاقت جادو کے توڑ، تعویذ یا عامل نہیں بلکہ ایمان، توکل، نماز، قرآن، دعا، صدقہ، استغفار، ذکرِ الٰہی اور سنتِ رسول ﷺ و اہل بیتؑ سے وابستگی ہے۔ حضرت موسیٰؑ کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ پر کامل بھروسہ کرتا ہے تو سمندر راستہ بن جاتا ہے، فرعون کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور جادو باطل ہو جاتا ہے۔

﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
(الطلاق: 3)

“اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔”

Rasheed Ahmad Chughtai

www.rachughtai.com

WhatsApp and cell

+923335101352

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top